SEMINAR ON INTERNAIONAL THALASSEMIA DAY (8th May, 2023) CONDUCTED AT FATIMA JINNAH MEDICAL UNIVERSITY, LAHORE

تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے حوالہ سے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار کا انعقاد


پنجاب تھیلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، روک تھام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی  میں تھیلیسیمیا کے عالمی دن پر آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل نے بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے بطور گیسٹ اسپیکرشرکت کی۔
پرنسپل پروفیسر نورین اکمل، ڈین بیسک سائنسز اینڈ انڈر گریجویٹس پروفیسر منزہ اقبال، ڈائریکٹر جنرل پی ٹی جی ڈی ڈاکٹر حسین جعفری، ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسمین احسان،فیکلٹی ممبران،انڈر گریجوئیٹ طالبات اور نرسز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
آج کے سیمینار کا تھیم "تھیلیسیمیا کیئر گیپ کو ختم کرنے کے لیے تعلیم کو مضبوط بنانا" تھا۔سیمینار کا بنیادی مقصد تھیلیسیمیا اور دیگر موروثی بیماریوں کی تشخیص ،بچاؤ اور خاتمےکے حوالہ سے آگاہی دینا تھا۔ 
استقبالیہ خطاب میں پرنسپل پروفیسر نورین اکمل نے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور تھیلیسیمیا کے حوالے سے مختصر بریفننگ دی۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روزانہ تھیلیسیمیا سے متاثرہ تقریبًا 17سے 20  بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آگاہی کا نہ ہونا ہے۔اُن کا مزیدکہنا تھا کہ جب دو تھیلیسیمیا مائنر کے مریضوں (کیریئرز) کی شادی کے نتیجے میں تھیلیسیمیا میجر سے متاثرہ بچوں کی پیدائش کا خدشہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے آن لائن  خطاب میں وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل ، پرنسپل پروفیسر نورین اکمل اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب تھلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، روک تھام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی مکمل معاونت حاصل ہے اور یہ ادارہ بہترین طریقے سے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تھیلیسیمیا فیڈریشن کے سینٹرز پورے پاکستان میں موجود ہیں۔ تھیلیسیمیا کے مریضوں میں وقت کے ساتھ بہتری آئی ہے اور ان کے مدت حیات میں اضافہ ہوا ہے جو کہ تھیلیسیمیا کی ٹیم کی بے مثال خدمات کا نتیجہ ہے۔ تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا آسان اور مؤثر طریقہ، احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہے ۔ دنیا بھر میں جتنے بھی ممالک نے اس بیماری  پر قابو پایا ہے وہ احتیاطی تدابیر کے ذریعے پایا ہے۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی میں تھیلیسیمیامائنر کی تشخیص ، اس بیماری کی روک تھام میں بہت معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ 
اسپیکر ڈاکٹر یاسمین احسان نے تھلیسیمیا کے حوالہ سے جامع بریفنگ پیش کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ بیماری خاندانوں میں نسل درنسل پائی جاتی ہے اور اگر ماں اور باپ دونوں کیریئر ہوں تو اُن کے بچوں میں تھلیسیمیا میجر کے اثرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اُنہوں نے پاکستان میں تھلیسیمیا کے حوالے سے اعداد و شمار سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قبل از پیدائش کی تشخیص کی سہولت بھی میسر ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ٹی جی ڈی ڈاکٹر حسین جعفری نے پنجاب تھلیسیمیا پریوینشن پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تھلیسیمیا اور دیگر موروثی بیماریوں کے خاتمے کے لیے حکومت پنجاب نے 2009-2010 میں پنجاب تھلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص, روک تھام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایاگیا۔ یہ ادارہ پنجاب بھر کے 36اضلاع میں تھیلیسیمیا اور دیگر موروثی بیماریوں سے بچاؤ اور خاتمہ کی مکمل سہولیات مفت فراہم کر رہا ہے ۔ پنجاب کی  09 ریجنل لیبارٹریز ،تھیلیسیمیا کا بلڈ ٹیسٹ، جینیاتی مشاورت، تشخیص قبل از پیدائش، شادی سے قبل تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ اور ڈی این اے لیب جیسی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل ، پرنسپل پروفیسر نورین اکمل اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
 وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کا سیمینار میں آن لائن شرکت پر شکریہ ادا کیا اور اور ڈاکٹر حسین جعفری کو اس شاندار سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔انہوں نے  قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا کہ "جس نے کسی ایک انسان کی جن بچائی، اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی"۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑاپریونشن سنٹر اس وقت فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ الحاق ہے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہےاور  اس کی بہترین مثال آج کا دن ہے۔اس بیماری میں آگاہی،احتیاطی تدابیر اورمشورہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ عطائیت،ناخواندگی اور غربت ،دیر سے تشخیص کا بڑا عنصر ہیں۔ آج کے دن کا پیغام "روک تھام اور بر وقت تشخیص" ہے ۔
سیمینار میں وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل اور دیگر شرکاء کوشیلڈز سے بھی نوازا گیا ۔
سیمینار کے اختتام پر آگاہی واک کا اہتمام بھی کیا گیا۔